بنگلورو:7؍ جنوری (ایس اؤ نیوز)ملکی سطح پر اعلان کئے گئے 8جنوری کے بھارت بند احتجاج میں ملک بھر سے 25کروڑ لوگ شامل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس احتجاج کا اعلان 10ٹریڈ یونینس نے مل کر مشترکہ طور پر کیا ہے۔ بھارت بند میں کئی ایک مطالبات کے ساتھ شہریت ترمیمی بل، این آر سی اور این پی آرکو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اسے عوام مخالف قرار دیا گیا ہے۔
ٹریڈیونینس انٹک، اے آئی ٹی یو سی، ایچ ایم ایس، سی آئی ٹی یو ، اے آئی یو ٹی یو سی، ٹی یوسی سی ، ایس ای ڈبلیو اے، اے آئی سی سی ٹی یو ، ایل پی ایف، یو ٹی یوسی سمیت کئی آزاد فیڈریشنس اور اسوسی ایشنس نے 2019کے ستمبر میں قرار داد پاس کی تھی کہ وہ 8جنوری کو ملکی سطح کا بھارت بند احتجاج کریں گے۔
ٹریڈ یونینس کی طرف سے جاری کرد ہ مشترکہ پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ اس احتجاج کے ذریعے ہمارا مطالبہ ہے کہ مزدور مخالف، عوام مخالف، ملک مخالف پالیسیوں کو حکومت واپس لے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مزدوروں کے مطالبات کو حل کرنے کے متعلق وزارت مزدور نے یقین دہانی کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔حکومت کی پالیسیوں اور طریقہ کار سے مترشح ہوتاہے کہ مزدوروں کے تئیں حکومت کا رویہ معاندانہ اور توہین آمیز ہے۔ پریس ریلیز میں ائیر پورٹس، ریلوے ،دفاعی پیداوار یونٹ کی49 کارپوریشنس اور زبردستی بینکوں کا انضمام کئے جانے پر مذمت کی گئی ہے۔
ریلیز میں اس بات پرتشویش ظاہر کی گئی ہے کہ بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو ضم کرنے کااعلان کیاگیا ہے ، 93،600ملازمین کو والنٹیری ریٹائر منٹ کے ذریعے باہر کیا جاچکا ہے، 12ائیرپورٹس پرائیویٹ ہاتھوں میں جاچکے ہیں، ائیر انڈیا کو 100فی صد بیچنے کی تیاری ہے۔ یہ سب واضح کررہے ہیں کہ حکومت مزدور مخالف پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جولائی 2015سے انڈین لیبر کانفرنس کا انعقاد نہ ہونے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیاگیا ہے۔
احتجاج میں ٹریڈ یونینس کے علاوہ 60تنظمیں اور منتخب شدہ عہدیداران اور کچھ یونیورسٹیاں بھی بھارت بند کا تعاون کررہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 175سے زائد کسانوں اور زرعی مزدوریونینس نے بھی بھارت بند احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
احتجاج کے دوران حکومت سے جن اہم مطالبات کو پیش کیاگیا ہے ان میں مزدوروں کی تنخواہ 21ہزار سے 24ہزارروپئے کئے جائیں۔ سرکاری کمپنیوں کو پرائیویٹ نہ کیا جائے۔ بینکوں کاانضمام روکیں۔ خاص کر سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کو واپس لینے کا مطالبہ بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایک بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے۔